پٹنہ؍گوپال گنج، 20اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بہار کے گوپال گنج ضلع کے کھجوربننی علاقے سے زمین کے نیچے چھپا کر رکھے گئے 550لیٹر غیر قانونی مقامی شراب برآمد کی گئی ہیں۔یہاں حال ہی میں مشتبہ زہریلی شراب پینے سے 16افراد کی موت ہو گئی ہے۔گوپال گنج کے ضلع مجسٹریٹ راہل کمار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے آج کہا کہ کھجوربننی علاقے میں آج بھی جے سی بی مشین کے ذریعے زمین کی کھدائی جاری ہے۔سخت تلاشی کے دوران کی گئی زمین کی کھدائی میں پلاسٹک کنٹینر میں مذکورہ’’مہوا‘‘برآمد کیا گیا۔اس درمیان، شہر تھانہ انچارج سنتوش کمار نے بتایا کہ اس مشتبہ زہریلی شراب سانحہ کے اہم ملزم لال بابو پاسی کو پڑوسی اتر پردیش کے دیوریا ضلع سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس سانحہ کے بعد لال بابو دیوریا فرار ہو گیا تھا۔ضلع مجسٹریٹ نے بتایا کہ انہوں نے مصنوعات محکمہ سے کھجوربننی علاقہ جہاں میڈیا رپورٹ کے مطابق اب بھی شراب کا کاروبار جاری ہے جس سے لوگوں پر اجتماعی جرمانہ لگانے کے لئے تجویز دینے کو کہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کھجوربننی علاقے میں 56گھر ہیں اور مصنوعات محکمہ سے ویسے گھر جو کہ شراب کے کاروبار میں ملوث ہیں ان کا سروے کرانے کو کہا گیا ہے تاکہ ان کے خلاف نئی مصنوعات قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔مصنوعات محکمہ کے پرنسپل سکریٹری کے کے پاٹھک نے کہا کہ اگر زہریلی شراب سے موت کی تصدیق ہوتی ہے تو نئے قانون کی دفعات کے مطابق ملزمان کی جائیداد ضبط کی جائے گی۔اس درمیان مدھے پورا کے ایم پی اور جن ادھیکار پارٹی سربراہ راجیش رنجن عرف پپو یادو نے اس حادثے سے متاثرہ اہل خانہ سے ملاقات کرنے کے لئے پٹنہ سے گوپال گنج کے لئے آج روانہ ہونے سے پہلے نتیش کمار حکومت کو اس واقعہ کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا اور ریاستی حکومت کی طرف سے اس کو لے کر بنائے گئے قانون کو سیاہ قانون قرار دیا۔پٹنہ میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے خلاف اگلے دو ہفتے کے دوران سپریم کورٹ میں عرضی دائر کریں گے۔